مصلے کا کونالپیٹنا کیسا ہے؟

سوال

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں
کہ بعض لوگ نماز پڑھنے کے بعد مصلٰی کے کونے لپیٹ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس مصلیٰ کے کونے نہ لپیٹے جائیں اس پر شیطان نماز پڑھتا ہے
اس کی کیا حقیقت ہے؟
 مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
 سائل محمد معراج قادری پیلی بھیت شریف
 

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

 مصلے کا کونا لپیٹنے میں اصلا کوئی حرج نہیں ہے. لیکن یہ خیال کرنا کہ اگر کونا نہ لپیٹا جائے تو اس پر شیطان نماز پڑھتا ہے یہ بے اصل  ہے البتہ پورا مصلی لپیٹ دینا بہتر ہے صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :نماز پڑھنے کے بعد مصلے کولپیٹ کر رکھ دیتے ہیں، یہ اچھی بات ہے کہ اس میں زیادہ احتیاط ہے، مگر بعض لوگ جانماز کا صرف کونا لوٹ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرنے میں اس پر شیطان نماز پڑھے گا یہ بے اصل ہے (بہار شریعت ج ٣ ح ١٦ ص ٤٩٩ ط. المدینۃ العلمیہ)
ہاں احادیث مبارکہ میں اس چیز کا ذکر ملتا ہے کہ جو کپڑے تہہ نہ کئے جائیں انہیں شیاطین استعمال میں لاتے ہیں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا کہ
اکثر دیہات میں نماز پڑھ کر جب اُٹھتے ہیں کونا مصلّی کا اُلٹ دیتے ہیں اس کا شرعًا ثبوت ہے یا نہیں؟
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے اس پر مندرجہ ذیل احادیث نقل فرمائیں 
 ابن عساکر نے تاریخ میں جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الشیاطین یستمتعون بثیابکم فاذا نزع احدکم ثوبہ فلیطوہ حتی ترجع الیھا انفاسھا فان الشیطان لایلبس ثوبا مطویا شیطان تمہارے کپڑے اپنے استعمال میں لاتے ہیں تو کپڑا اتار کر تہہ کر دیا کرو کہ اس کا دام راست ہوجائے کہ شیطان تَہہ کئے کپڑے نہیں پہنتا۔ 
 (کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن جابر. مکتبۃ التراث الاسلامی حلب بیروت ۱۵/ ۲۹۹)
 معجم اوسط طبرانی کے الفاظ یہ ہیں أطووا ثیابکم ترجع الیھا ارواحھا،فان الشیطان اذا وجد الثوب مطویا لم یلبسہ ، وان وجدہ منشورا لبسہ کپڑے لپیٹ دیا کرو کہ ان کی جان میں جان آجائے اس لئے کہ شیطان جس کپڑے کو لپٹا ہوا دیکھتا ہے اسے نہیں پہنتا اور جسے پھیلا ہوا پاتا ہے اسے پہنتا ہے۔
 (العجم الاوسط حدیث نمبر ۵۶۹۸ مکتبہ المعارف ، الریاض ۶/ ۳۲۸) 
 ابن ابی الدنیا نے قیس ابن ابی حازم سے روایت کی: قال ما من فراش یکون مفروشا لاینام علیہ احد الا نام علیہ الشیطان فرمایا جہاں کوئی بچھونا بچھا ہو جس پر کوئی سوتا نہ ہو اس پر شیطان سوتا ہے۔.
 احادیث نقل فرمانے کے بعد امام اہلسنت فرماتے ہیں

ان احادیث سے اُس کی اصل نکل سکتی ہے اور پورا لپیٹ دینا بہتر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج ٦ ص ٢٠٦ ) 

 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


 محمد ذیشان مصباحی غفر لہ
  دلاور پور محمدی لکھیم پور کھیری

About حسنین مصباحی

Check Also

مصنوعی بال اور دانت لگوانا کیسا ہے؟

سوال   السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *