استاد شاگرد کو مار سکتا ہے یا نہیں؟ Ustad Shagird Ko Mar Sakta Hai?

سوال

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد سلام عرض ہے کہ استاذ اپنے شاگرد کو کتنا مار سکتا ہے ایک ڈنڈا یا دو یا تین جواب عنایت فرمائیں آپکی عین نوازش ہوگی

 ساٸل :محمد عثمان مصباحی بریلی شریف

 
جواب


الجواب بعون الملك الوھاب اللهم ھدایۃ الحق والصواب

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
 استاد کا شاگرد کی اصلاح کے لئے بقدر حاجت چہرے کے علاوہ جسمانی سزا دینا جائز ہے لیکن چھڑی اور ڈنڈے سے نہ مارے بلکہ ہاتھ سے مارے اور ایک وقت میں صرف تین ہی ضربیں لگائے اس سے زیادہ کی اجازت نہیں
 ردالمحتار میں ہے
 
لا یجوز ضرب ولد الحر بامر ابیه اما المعلم ضربه لمصلحة التعلیم وقیدہ الطرسوسی بان یکون بغیر آلة جارحة وبان لا یزید علی ثلث ضربات وردہ الناظم بانه لاوجه لع ویحتاج الی نقل واقرہ الشارح قال الشرنبلالی والنقل فی کتاب الصلوٰة یضرب الصغیر بالید لا بالخشبة ولا یزید علی ثلٰث ضربات اھ
 
(ردالمحتار جلد ٥ صفحہ ٢٧٦) 
 
 اعلٰی حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:ضرورت پیش آنے پر بقدر حاجت تنبیہ و اصلاح اور نصیحت کے لئے بلا تفریق اجرت و عدم اجرت استاد کا بدنی سزا دینا اور سرزنش سے کام لینا جاٸز ہے مگر یہ سزا لکڑی ڈنڈے وغیرہ سے نہیں بلکہ ہاتھ سے ہونی چاہیے اور ایک وقت میں تین مرتبہ سے زاٸد نہ پٹاٸی نہ ہونے پائے
 
(فتاوی رضویہ جلد ٩ صفحہ ١٤٠) 

  جامع الصغار میں ہے:جب بچے کی عمر دس سال ہو جاۓ تو نمازی بنانے کے لیے اسے ہاتھ سے سزا دی جاۓ لاٹھی سے نہیں اور تین مرتبہ سے تجاوز بھی نہ کیا جاۓ یوں ہی استاد کے لئے روا نہیں کہ تین مرتبہ سے تجاوز کرے. حضور ﷺ نے استاد کے بچوں کو مارنے کے بارے ارشاد فرمایا کہ تین مرتبہ سے زاٸد ضربیں لگانے سے پرہیز کرو کیونکہ اگر تم نے تین مرتبہ سے زاٸد سزا دی تو اللہ تعالی قیامت کے دن تم سے بدلہ لے گا(جامع الصغار صفحہ ١٦)

مشکوٰۃ شریف میں ہے 

اذا ضرب احدکم فلیتق الوجه

(صفحہ ٣١٦) 

 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب  

محمد عمران خان قادری غفر لہ

نہروسہ ،پیلی بھیت یوپی انڈیا

استاد شاگرد کو مار سکتا ہے یا نہیں؟

Ustad Shagird Ko Mar Sakta Hai?

About حسنین مصباحی

Check Also

مصنوعی بال اور دانت لگوانا کیسا ہے؟

سوال   السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ   کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *