نماز میں پاجامہ یا پینٹ کو موڑنا کیسا ؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پینٹ اور پاجامہ کو اوپر سے موڑ کر نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں؟ 

 

جواب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

 پینٹ یا پاجامہ موڑ کر نماز پڑھنا مطلقاً مکروہ تحریمی ہے، خواہ نیچے سے موڑے یا اوپر سے یعنی ناف کی طرف سے موڑے یا گھرس (کھوس) لے، دونوں صورتوں میں نماز مکروہ تحریمی ہوگی۔
 اور ہر وہ نماز جو مکروہ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہو، اس کا اعادہ واجب ہے۔ لہذا اگر کسی نے کپڑے موڑ کر نماز پڑھ لی تو اس نماز کو پھر دوبارہ پڑھے۔ اگر دوبارہ نہ پڑھی تو گنہ گار ہوگا۔
 در مختار میں ہے
 

كره ( كفه) أى رفعه و لو لتراب كمشمر كم أو ذيل

مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
 

و حرر الخير الرملي ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية. 

( رد المحتار مع الدر المختار و تنویر الابصار، الجزء الثانی، کتاب الصلوۃ، باب ما یفسد الصلوۃ و ما یکرہ فیھا، ص: ٤٠٦، دار عالم الکتب۔ )
 “در مختار” میں ہے
 

كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها. .. و إن لم يعدها يكون فاسقا آثما

( الدر المختار مع تنویر الابصار الجزء الثانی، کتاب الصلوۃ، باب صفة الصلوة، ص: ١٤٧، دار عالم الکتب ریاض)
” 
ہدایہ اولین” میں ہے
 

ولا يكف ثوبه، لأنه نوع تجبر. 

 الھدایۃ، المجلد الاول، کتاب الصلوۃ باب مکروھات الصلوۃ، ص: ٢٧٨، مکتبۃ البشریٰ۔)
” 
فتاویٰ ھندیہ” میں ہے 

يكره للمصلي… أن يكف ثوبه بأن يرفع ثوبه من بين يديه أو من خلفه إذا أراد السجود. كذا في معراج الدراية

( فتاویٰ ہندیہ، جلد اوّل، کتاب الصلاۃ، الباب السابع، الفصل الثانی، ص: ١٠٥، دار الفکر۔) 
 نیز ایسا ہی فتاویٰ بحر العلوم جلد اول، کتاب الصلاۃ، باب مکروہات صلاۃ، ص: ٤٥٣،
فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول، کتاب الصلاۃ، باب مکروہات صلاۃ، ص: ١٧٨، اور فتاویٰ مرکز تربیت افتا جلد اول، کتاب الصلاۃ، باب مکروہات صلاۃ، ص: ٢٢٣ پر ہے
 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


محمد شفاء المصطفى المصباحي

المتدرب على الإفتاء بالجامعة الأشرفيه مبارك فور.
١٣/ صفر المظفر ١٤٤٢ ھ۔

About حسنین مصباحی

Check Also

امام مقتدیوں سے اونچائی پر ہو تو کیا حکم ہے؟

سوال   السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *