معتمر حلق نہ کروائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

 کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید عمرہ کرنے کیلئے گیا عمرہ کیا لیکن حلق کروانا بھول گیا جدہ میں آکر حلق کروایا اور احرام کھول دیا تو اب زید کیلئے کیا حکم ہے دم ہے یا صدقہ ہے
اور اگر دم ہے تو کیا فورا دم دینا ضروری ہے اگر دم یوپی میں دلوا دے تو کیا حکم ہے؟ 
 ساٸل محمد قمر الدین اسمٰعیلی 
 
جواب


الجواب بعون الملك الوھاب اللهم ھدایۃ الحق والصواب

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
 صورت مستفسرہ میں زید پر دم واجب ہے کہ حلق یا تقصیر حدود حرم میں واجب ہے اور ترک واجب سے دم لازم آتا ہے
 کفارات علی التراخی واجب ہوتے ہیں اس لیے فورا دم ادا کرنا واجب نہیں زندگی میں جب بھی ادا کرے گا ادا ہو جائے گا
دم حدود حرم میں ادا کرنا ضروری ہے چاہے خود جاکر کرے یا کسی کو وکیل بنا کر اس سے کروا دے یوپی میں نہیں ادا کر سکتا

 فتاویٰ شامی میں ہے 

قوله: أو حلق في حل بحج أو عمرة ” أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل؛ لتوقته بالمكان، وهذا عندهما، خلافاً للثاني
کتاب الحج باب الجنایات، ج، ٣ ص، ٥٨٦ ط، دار عالم الکتب ریاض

 فتاویٰ رضویہ میں ہے :کفارہ کی قربانی یا قارن ومتمتع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہوسکتی 
فتاویٰ رضویہ مخرجہ ج، ١٠ ص، ٧٦٢ ط، مرکز اہلسنت برکات رضا
 
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

محمد ذیشان مصباحی غفر لہ


دلاور پور،محمدی لکھیم پور کھیری یوپی انڈیا
 ٢٠/صفر المظفر ١٤٤٣ھ

About حسنین مصباحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *