مرغے کی کھال اور پنجے کھانا کیسا ہے؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں

کہ مرغے کی کھال اور پنجے کھانا جائز ہیں یا نہیں؟ 

 سائل محمد سہیل رضا قادری لکھیم پوری 
 

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

 الجواب بعون الملک الوھاب اللهم ھدایۃ الحق والصواب 
 حلال جانور کی کھال اور اور پائے کھانا بلا شبہ جائز و درست ہے بشرطیکہ مذبوح شرعی ہو

 حضور اعلی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں
مذبوح حلال جانور کی کھال بیشک حلال ہے شرعاً اس کا کھانا ممنوع نہیں اگر چہ گاۓ بھیس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی
 درمختار میں ہے
 

اذا ما ذكيت شاة فكلها سوى سبع ففيهن الوبال فحاء ثم خاء ثم غين و دال ثم ميمان و ذال انتهى فالحاء الحياء وهو الفرج و الخاء الخصية و الغين الغدة و الدال الدم المسفوح و الميمان المرارة و المثانة و الذال الذكر 

در مختارمیں ہے 
جب بکری ذبح کی گئی تو سات اجزاء جن میں وبال ہے کے ماسوا کو کھاؤ،سات یہ ہیں:ح، پھرخ، پھر غ، اور د،پھر دو میم، اور ذ انتہی حا حیاء کی وہ شرمگاہ، خاء خصیہ کی، غین غدود کی، دال دم مفسوخ کی، اور دومیم مرارہ(پتہ)اور مثانہ، اور ذال ذکر ہے۔
 (فتاویٰ رضویہ مترجم ج ٢٠ ص ٢٣٣) 
 فتاوی نوریہ میں ہے
عوام کا کہنا کہ پرندہ پنجہ سے کھانے والاحرام ہے محض غلط ہے،وہ بیچارے ذی مخلب کا معنی نہیں جانتےذی مخلب کا معنی ہے مخلب والا اور مخلب اس دھار دار ناخن کا نام ہے جس کے ساتھ جانور شکار کرتا ہے پر ظاہر کہ مرغی کبوتر وغیرہ کا پنجہ ضرور ہے مگر اس سے شکار نہیں کرتے لہذا ذی مخلب نہ ہوئی
 (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤١٣ کتاب الذبائح) 
 عالمگیری میں ہے 
 
و ما لا مخلب لہ من الطیر فالمستائنس منہ کالدجاج والبط والمتوحش کالحمام حلال بالاجماع کذا فی البدائع 
اورجن پرندوں کے شکارکرنے والے پنجے نہیں ہوتے تو ان میں سے پالتو جیسےمرغی بطخ اور وحشی جیسے کبوتر بالاجماع حلال ہیں اسی طرح بدائع میں ہے
 (عالمگیری،ج ٥ ص ٢٨٩)
 لہذا مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ مرغے کی کھال اور پنجے کھانا کھانا جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے
 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


فقیر محمد انعام الحق رضا قادری عفی عنہ


مراد آباد یوپی انڈیا

About حسنین مصباحی

Check Also

طوطا، بگلا، اور ہدہد کھانا کیسا ہے؟

سوال السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *