تین طلاق کے بعد رجوع کی کوئی صورت ہے کہ نہیں؟

سوال

میری شادی کے 4 ماہ کے بعد کسی چھوٹی سی بات پر میرا اور میرے شوہر کا فون پہ جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے مجھے طلاق،طلاق،طلاق لکھ دیا،جس دن انہوں نے مجھے طلاق دی اس سے 2 دن پہلے ہمارا جماع ہو چکا تھا۔مولوی صاحب سے پوچھا تو وہ بولے طلاق بائن ہو گئی ہے قانونی کاروائی پوری کر دو اب کوئی راستہ نہیں واپسی کا۔اس کے بعد مجھے اگلے دن قانونی نوٹس مل گیا میرے شوہر کی طرف سے۔اس دوران میں اپنی امی کے گھر پہ تھی اور وہ اپنے گھر پہ۔اس کے دوسرے ماہ میرے سسرال میں سے کسی نے دوسرا قانونی نوٹس مجھے بھیج دیا جو نہ میرے شوہر نے لکھا نہ سائن کیا۔ جو بعد میں،ان کو بتایا گیا کہ ہم نے بھیج دیا ہے۔لیکن جس وقت وہ نوٹس لکھا گیا،اور مجھے ملا میں اس وقت حیض میں تھی،اسی طرح تیسرا نوٹس بھی تیسرے ماہ مجھے میرے شوہر نے خود لکھ کر۔ بھیج دیا اور اللّٰہ کی مرضی ،کہ اس وقت بھی میں حیض سے تھی۔۔اس وقت 5 ماہ ہو گئے ہمیں الگ ہوئے اور 3 ماہ سے ہم صحیح اور غلط کی تلاش میں ہیں کہ کیا ہماری طلاق بائن ہو گئی؟ یا ابھی بھی ہم میاں،بیوی ہیں یا دوبارہ نکاح کا راستہ باقی ہے؟ 

براہ مہربانی حوالہ کی مدد سے راہنمائی فرمائیں
 
جواب


الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

 جس طرح زبان سے طلاق واقع ہوتی ہے اسی طرح تحریر سے بھی طلاق واقع ہوتی ہے. لیکن اس کے لیے شوہر کا اقرار یا گواہان عادل کی گواہی ضروری ہے لأن الخط یشبه الخط
 فتاویٰ عالمگیری میں ہے
 
إن کانت مرسومة یقع الطلاق نوی وإن لم ینو ثم المرسومة لا تخلو إما ان أرسل الطلاق بأن کتب أما بعد یقع الطلاق فکما کتب ھذا یقع الطلاق وتلزمھا العدة من وقت الکتابة
کتاب الطلاق باب فی ایقاع الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابة ج ١ ص ٤١٤ /دار الکتب العلمیہ 
 مذکورہ تفصیل کی روشنی میں اگر آپ کے شوہر کو اپنی تحریر کا اقرار ہے یا گواہان عادل سے ثابت ہے کہ اسی کی تحریر ہے جس میں اس نے تین بار لفظ طلاق لکھا تو طلاق مغلظہ واقع ہوگئی.اب اگر آپ اسی کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں تو حلالہ کرنا ہوگا. یعنی آپ کسی دوسرے سے نکاح کریں پھر وہ جماع کرے اس کے بعد طلاق دے پھر بعد انقضاء عدت آپ شوہر اول سے نکاح جدید کر سکتی ہیں. اگر شوہر ثانی دخول کئے بغیر طلاق دے دے تو آپ شوہر اول سے نکاح نہیں کر سکتیں.
جیسا کہ حدیث عسیلہ سے ظاہر ہے
 عن عائشة رضي الله عنھا جاءت أمرأة رفاعة القرظي النبي صلی الله علیه وسلم فقالت :کنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمٰن بن الزبیر إنما معه مثل ھدبة الثوب. فقال:أ تریدین أن ترجعي إلی رفاعة لا حتی تذوقي عسیلته ویذوق عسیلتك
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ پھر مجھے انہوں نے طلاق دے دی اور قطعی طلاق دے دی۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی۔ لیکن ان کے پاس تو (شرمگاہ)کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہے تو انہوں نے کہا ہاں. تو آپ ﷺنے فرمایا تو اس وقت تک ان سے اب شادی نہیں کر سکتی جب تک تو عبدالرحمٰن بن زبیر کا مزا نہ چکھ لے اور وہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں
 (بخاری شریف حدیث نمبر ٢٦٣٩) 
 آپ کے سوال سے ظاہر ہے کہ آپ کے شوہر نے تحریری طلاق پہلے دی اور قانونی نوٹس کی کارروائی بعد میں ہوئی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں کیوں کہ طلاق تو پہلے ہی واقع ہو گئی. اگر اس کے علاوہ معاملہ ہو تو تفصیل لکھ کر دریافت کریں 
نیز حالت حیض میں بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے
 اور جن مولوی صاحب نے غلط مسئلہ بتایا وہ سخت گنہگار مستحق غضب جبار ہیں ان پر لازم ہے کہ فورا توبہ کریں
حدیث شریف میں ہے
 
من افتی بغیر علم لعنته ملٰئکة السماء والارض
 (الجامع الصغیر ص ٥١٧)
 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


محمد ذیشان مصباحی غفر لہ

دلاور پور محمدی لکھیم پور کھیری یوپی انڈیا

 ٢٨/رجب المرجب ١٤٤٢ھ

About حسنین مصباحی

Check Also

شوہر بیوی کے پاس بھی نہ جاتا ہو اور طلاق بھی نہ دیتا ہو تو کیا حکم ہے؟

h سوال السلام علیکم و رحمۃ اللہ برکاتہ  کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *