لنگڑا شخص امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

سوال

 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص امامت کرتا تھا اس کا اکسیڈنٹ میں ایک پاؤں ٹوٹ گیا تھا دوا چلانے کے بعد وہ ٹھیک ہو گیا لیکن ہلکا ہلکا لنگڑاتا ہے اور نماز ادا کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی ہے یہاں تک کہ قیام،رکوع،سجدہ کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہوتی ہے۔ تو کیا وہ نماز پڑھا سکتا ہے ۔
مفصل ومدلل جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
 المستفتی :محمد جسیم۔ سیتامڑھی بہار

جواب
الجواب بعون الملک الوھاب اللهم ھدایۃ الحق والصواب 

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ 
 مذکور فی السوال شخص کی امامت بلا کراہت جائز ودرست ہے اور اگر وہ عالم ہو تو دوسروں کے مقابلے میں اور زیادہ مستحق امامت ہے ہاں اگر کوئی دوسرا عالم موجود ہو تو اس کی امامت بہتر یے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : ایسے شخص کی امامت بلا شبہ جائز ہے پھر اگر وہی عالم ہے تو وہی زیادہ مستحق ہے اس کے ہوتے جاہل کی تقدیم ہر گز نہ چاہئے اور اگر دوسرا عالم بھی موجود ہے جب بھی اس کی امامت میں حرج نہیں مگر بہتر وہ دوسرا ہے ، یہ سب اس صورت میں کہ دونوں شخص شرائط صحت وجواز امامت کے جامع ہوں صحیح خواں صحیح الطہارۃ سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن ورنہ جامع شرائط ہوگا وہی امام ہوگا
 
(فتاوی رضویہ مترجم ج 6 ص 554 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

فقیر محمد نعمان اختر عفی عنہ

بہار،انڈیا

لنگڑا شخص امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

Langda Shakhs Imamat Kar Sakta Hai?

About حسنین مصباحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *