کیااللہ نے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھائی ہے



سوال



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھائی ہے یا نہیں؟ جواب مع حوالہ عنایت فرمائیں آپکی عین نوازش
ہوگی

 سائل۔۔۔۔ محمد شانب رضا



جواب



وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 جی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب،آخری نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ کی زندگی، آپ کی عمر، آپ کی باتوں اور آپ کے شہر کی قسمیں کھائی ہیں

جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے



لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ




(سورہ الحجر الآیۃ۷۲)

 ترجمہ
اے حبیب! تمہاری جان کی قسم! بیشک وہ کافر یقینااپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں

 اس آیۃ کے تحت خازن کے حوالہ سے تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ
 اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا ، حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی جان کی قسم! حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مزید فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کوئی جان بارگاہِ الٰہی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جانِ پاک کی طرح عزت و حرمت نہیں رکھتی اور اللّٰہ تعالیٰ نے سیّد المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عمر کے سوا کسی کی عمر اور زندگی کی قسم نہیں فرمائی یہ مرتبہ صرف حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کا ہے۔ اس قسم کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ بیشک وہ کافر یقینا اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں ۔


 (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۷۲، ۳ / ۱۰۶، ملخصاً) 

 اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں


قال جل جلالہ


 لَعَمْرُکَ اِنَّہُمْ لَفِیۡ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُوۡنَ


 وقال تعالٰی


 لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۱﴾ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَد  

حق جل جلالہ اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم سے فرماتا ہے: تیری جان کی قسم وہ کافر اپنے نشے میں اندھے ہورہے ہیں۔

اورالله تعالٰی نے فرمایا: میں قسم یاد کرتاہوں اس شہر کی کہ تو اس میں جلوہ فرماہے

 

وقال تعالٰی 


وَ قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُو 


 قال تعالی




 وَالْعَصْرِ 
اور الله تعالٰی نے فرمایا: مجھے قسم ہے رسول کے اس کہنے کی کہ اے رب میرے ! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے،

اور الله تعالٰی نے فرمایا :
 قسم زمان برکت نشان محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی

اے مسلمان ! یہ مرتبہ جلیلہ اس جان محبوبیت کے سو ا کسے میسر ہوا کہ قرآن عظیم نے ان کے شہرکی قسم کھائی،ان کی باتوں کی قسم کھائی،ان کے زمانے کی قسم کھائی،ان کی جان کی قسم کھائی،صلی الله تعالٰی علیہ وسلم

ہاں اے مسلمان !محبوبیت کبری کے یہی معنی ہیں والحمد لله رب العالمین۔(اور سب تعریفیں الله تعالٰی کے لیے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا۔)

ابن مردویہ اپنی تفسیر میں حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں

 

ما حلف الله بحیاۃ احد الا بحیاۃ محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال تعالٰی:” لَعَمْرُکَ اِنَّہُمْ لَفِیۡ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُوۡنَ
و حیاتك یا محمد


یعنی الله تعالٰی نے کبھی کسی کی زندگی کہ قسم یاد نہ فرمائی سوائے محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے کہ آیت لعمرك میں فرمایا تیری جان کی قسم اے محمد ﷺ

 (فتاویٰ رضویہ جدید ج ٣٠ ص ١٦٥)

 خلاصہ مذکورہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ پرور دگار عالم نے اپنے محبوب ﷺ کی زندگی، عمر زمانہ اور شہر کی قسمیں یاد فرمائی ہیں


واللہ ورسولہ اعلم بالصواب




محمد ذیشان رضا مصباحی
محمدی لکیھم پوری کھیری

About حسنین مصباحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *