کیا عورت غیر محرم کے ساتھ سفر کر سکتی ہے؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
  عورت غیر محرم کے ساتھ سفر کرسکتی ہے یا نہیں؟
 حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
 المستفتی :محمد خیر الاسلام بنگال انڈیا 
 
جواب


الجواب بعون الملك الوھاب اللهم ھدایۃ الحق والصواب

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
 صورت مسؤلہ میں عورت کو غیر محرم کے ساتھ سفر شرعی یعنی ٩٢ کلو میٹر یا اس سے زائد کرنا ناجائز وحرام ہے 
 فتاویٰ عالمگیری میں ہے 


و منھا المحرم للمرأة شابة کانت او عجوزا اذا کانت بینھا و بین مکة مسیرۃ ثلاثة ایام 
فتاویٰ عالمگیری جلد ١،صفحہ ٢١٨، ٢١٩،مطبوعہ کوئٹہ
 سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں :عورت اگر چہ عفیفہ یا ضعیفہ ہو اسے بے شوہر یا محرم سفر کو جانا حرام ہے اگر چلی جائے گی گنہگار ہوگی،ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا
 فتاویٰ رضویہ ، جلد ١٠ ، صفحہ ٧٠٦ ، ٧٠٧،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور
 صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:عورت کو مکہ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا۔محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لئے اس عورت کا نکاح حرام ہے خواہ نسب کی وجہ سے نکاح حرام ہو جیسے باپ بیٹا بھائی وغیرہ یا دودھ کے رشتہ سے نکاح کی حرمت ہو،جیسے رضاعی بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ یا سسرالی رشتہ سے حرمت آئی جیسے خسر، شوہر کا بیٹا وغیرہ 

 بہار شریعت،جلد١،صفحہ ١٠٤٤ 
 بلکہ خوفِ فتنہ کی وجہ سے تو علماء ایک دن کے سفر سے بھی منع کرتے ہیں
 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


فقیر محمد عمران خان قادری غفر لہ

نہروسہ پیلی بھیت یوپی انڈیا 

 ٢٢/جمادی الأخری ١٤٤٢ھ

About حسنین مصباحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *