دانتوں میں کوئی چیز پھنسی ہو جسے نکالنے میں تکلیف ہو تو بے نکالے غسل ہوگا یا نہیں؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 علماء کرام کی بارگاہ میں عرض ہے کہ کچھ دن پہلے ایک سوال کیا تھا کہ کیا دانتوں میں کچھ پھنس جائے تو غسل میں اس کو نکالنا ضروری ہے تو جواب ملا تھا کہ پانی کا بہنا ضروری ہے تو عرض یہ کہ دانتوں کے درمیان میں ہلکا سا سوراخ ہے جب اس کو پتلی سی تیلی وغیرہ سے صاف کیا جائے تب اس میں سے تھوڑا بہت نکلتا ہے اور خون نکلنے لگتا ہے اور ایک دشواری ہو جاتی ہے کہ مسوڑوں میں درد ہونا شروع ہو جاتا ہے تو ایسے میں مسوڑوں میں سے بغیر کچھ نکالے غسل ہو سکتا ہے
 المستفتی :محمد اکرم نیپال 
 
جواب


الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
 اصل حکم یہ ہے کہ دانتوں کی جڑوں اور کھڑکیوں میں، منہ کے ہر ہر پرزے پر پانی بہے اگر کوئی چیز پانی بہنے سے مانع ہو تو اس کا چھڑانا ضروری ہے بے چھڑائے غسل نہ ہوگا لیکن اگر چھڑانے میں اذیت ہو تو بغیر چھڑائے غسل ہو جائے گا
 ” رد المحتار” میں ہے
غسل کل فمه  عبر عن المضمضة والاستنشاق بالغسل لإفادۃ الاستيعاب أو للاختصار کما قدمه في الوضوء
(رد المحتار ج ١ کتاب الطھارۃ ص ٢٨٤/دار عالم الکتب)
 ” فتاویٰ عالمگیری” میں ہے
 
وقيل کل ذلك يجزيھم للحرج والضرورۃ ومواضع الضرورۃ مستثناۃ عن قواعد الشرعی کذا فی الظھیریة 
فتاویٰ عالمگیری ج ١ کتاب الطھارۃ باب الغسل ص ١٦/دار الکتب العلمیہ 

 صدر الشریعہ بدر الطريقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں
دانتوں کی جڑوں یا کھڑکیوں میں کوئی ایسی چیز جو پانی بہنے سے روکے، جمی ہو تو اس کا چھڑانا ضروری ہے اگر چھڑانے میں ضرر اور حرج نہ ہو جیسے چھالیا کے دانے، گوشت کے ریشے اور اگر چھڑانے میں ضرر اور حرج ہو جیسے بہت پان کھانے سے دانتوں کی جڑوں میں چونا جم جاتا ہے یا عورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو معاف ہے.
 (بہار شریعت ج ١ ح ٢ ص ٣١٦/ مجلس المدینۃ العلمیہ )

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں
دانتوں کی جڑ میں دانتوں کی کھڑکیوں میں حلق کے کنارے تك ہر پرزے پر پانی بہے یہاں تك کہ اگر کوئی سخت چیز کہ پانی کے بہنے کو روکے گی دانتوں کی جڑ یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اُسے جُدا کر کے کُلّی کرے ورنہ غسل نہ ہوگا،ہاں اگر اُس کے جُدا کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجر ہوجاتا ہے کہ جب تك زیادہ ہو کر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے چھڑانے کے قابل نہیں ہوتا یا عورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تك یہ حالت رہے گی اس قدر کی معافی ہوگی فان الحرج مدفوع بالنص(اس لیے کہ نص سے ثابت ہے کہ جہاں حرج ہواسے دفع کیاجائے ۔
 (فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١ ص ٤٤٠/مرکز اہلسنت برکات رضا)
 
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 


محمد ذیشان مصباحی غفر لہ

دلاور پور،محمدی لکھیم پور کھیری 

٣/جمادی الاخری ١٤٤٢ھ

About حسنین مصباحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *