دادا پوری جائداد ایک پوتے کے نام کر دے تو دوسروں کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے دادا نے اپنی جائیداد پوتے زید کے نام بینامہ کر دی اب دادا کا اتنقال ہوگیا اس جائیداد میں دو سروں کا حصہ ہوگا یا نہیں. قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

 سائل۔محمد منصرف خطیب و امام مدینہ مسجد نزد درگاہ تھانہ بہرائچ شریف یوپی
 
جواب


الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
 صورت مستفسرہ میں اگر پوتے نے جائداد پر قبضہ کر لیا تو وہ اس کی ملکیت ہو گئی اب اس میں دوسروں کا حصہ نہیں ہے.لیکن دادا ورثاء کو محروم کرنے کے سبب گنہگار ہوگا. 
 فقیہ فقید المثال اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرحمن فرماتے ہیں :نام لکھا دینا اگر چہ دلیل تملیک ہے اور یہ تملیک ہبہ ہے مگر ہبہ بے قبضہ کے تمام نہیں ہوتا،نہ بغیر اس کے موہوب لہ کو ملک حاصل ہو 
 فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٩ ص ٢٠٢ /مطبوعہ مرکز اہلسنت برکات رضا 

 حدیث شریف میں ہے
 

عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من فر عن میراث وارثه قطع الله میراثه من الجنة یوم القیامة

انس بن مالک (رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے وارث کی میراث سے بھاگے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت سے اس کی میراث کاٹ دیا۔

 سنن ابن ماجہ جلد دوم کتاب الوصایا حدیث نمبر: ٢٧٠٣ 
 اور اگر قبضہ نہیں کیا تو دادا کے انتقال کے بعد وہ جائداد ترکہ ہو جائے گی اور اس میں وارثین اپنے اپنے حصے کے مطابق حقدار ہوں گے 

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

محمد ذیشان مصباحی غفر لہ

دلاور پور محمدی لکھیم پور کھیری یوپی انڈیا

 ١٨/رجب المرجب ١٤٤٢ھ

About حسنین مصباحی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *