Fatwa No. #573

سوال


میت کے ترکہ سے کتنے حقوق متعلق ہوتے ہیں رہنمائی فرمائیں


جواب 

الجواب بعون الملک الوھاب
میت کے ترکہ سے چار حقوق متعلق ہوتے ہیں اولا تجہیز و تکفین کی جائے ثانیا قرضوں کی ادائگی کی جائے ثالثا میت کے مال سے ثلث مال میں وصیت جاری کی جائے رابعاً وارثوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم کتاب و سنت کے موافق کی جائے. عالمگیری میں ہے
الترکة متعلق بھا حقوق أربعة جھاز المیت و دفنه والدین والوصیة والمیراث فیبدأ اولا بجھازه و کفنه وما يحتاج الیه فی دفنه بالمعروف ثم بالدین ثم تنفذ وصایاہ من الثلث ما یبقی بعد الکفن والدین الا ان تجیز الورثة أکثر من الثلث ثم یقسم الباقی بین الورثة علی سھام المیراث 
(ج6ص447)
 یعنی میت کے ترکہ سے چار حقوق متعلق ہوتے ہیں، میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی،وصیت اور میراث،تو أولا تجہیز و تکفین کی جائے، ثانیا قرض کی ادائیگی کی جائے ثالثا تجہیز و تکفین و قضائے دیون کے بعد جو مال بچے اس کے ثلث مال سے وصیت پوری کی جائے مگر جب ورثہ اس سے زیادہ کی اجازت دے دیں، پھر بقیہ مال میراث کے حصوں کے مطابق ورثہ کے درمیان تقسیم کیا جائے
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب

 

کتبہ:محمد صدیق حسن نوری امجدی غفر لہ

مہراج گنج، ضلع بہرائچ شریف یوپی انڈیا
 ٢١جمادی الاخری ١٤٤٤ھ