سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ دانتوں سے خون نکل آنے پر وضو ٹوٹ جائے گا نہیں ؟
اور کتنا خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟
سائل علی حضرت :بریلی
جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
اگر خون اتنا نکلے کہ تھوک کے برابر ہو یا تھوک پر غالب آ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں.
اب کب خون غالب ہوگا اور کب تھوک تو اس کے پہچاننے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر خون اور تھوک ملنے کے بعد تھوک کا رنگ زرد ہو جائے تو تھوک غالب ہوگا ایسی صورت میں وضو نہیں ٹوٹے گا اور اگر رنگ ہلکا سرخ ہو تو خون تھوک کے برابر ہوگا، اگر زیادہ سرخ ہو تو خون تھوک سے زیادہ ہوگا یعنی خون تھوک پر غالب ہوگا اور ان دونوں صورتوں میں وضو ٹوٹ جائے گا
نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں نواقض وضو کے بیان میں ہے
(و دم غلب على البزاق او ساواه)
و يعلم باللون فالأصفر مغلوب، وقليل الحمرة مساوٍ و شديدها غالب
(نور الایضاح مع مراقی الفلاح ص ٦٣ مطبوعہ المدینۃ العلمیہ)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
فقیر محمد ذیشان مصباحی غفر لہ
محمدی لکھیم پور کھیری
0 تبصرے
براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ